آنکھوں سے خواب، دل سے تمنا تمام شد
تم کیا گئے، کہ شوقِ نظارا تمام شد
کل تیرے تشنگاں سے یہ کیا معجزہ ہوا
دریا پہ ہونٹ رکھے، تو دریا تمام شد
دنیا تو ایک برف کی سل سے سوا نہ تھی
پہنچی ذرا جو آنچ، تو دنیا تمام شد
عشاق پر یہ اب کے عجب وقت آپڑا
مجنوں کے دل سے حسرت لیلٰی تمام شد
شہرِ دل تباہ میں پہنچوں تو کچھ کھلے
کیا بچ گیا ہے راکھ میں، اور کیا تمام شد
ہم شہرِ جاں میں آخری نغمہ سنا چکے
سمجھو کہ اب ہمارا تماشا تمام شد
اک یاد یار ہی تو پس انداز ہے حسن
ورنہ وہ کار عشق تو کب کا تمام شد
حسن عباس رضا
وہ درد، وہ وفا، وہ محبت تمام شُد
لے! دل میں ترے قرب کی حسرت تمام شُد
یہ بعد میں کُھلے گا کہ کس کس کا خُون ہوا
ہر اِک بیاں ختم، عدالت تمام شُد
تُو اب تو دشمنی کے بھی قابل نہیں رہا
اُٹھتی تھی جو کبھی وہ عداوت تمام شُد
اب ربط اک نیا مجھے آوارگی سے ہے
پابندیء خیال کی عادت تمام شُد
جائز تھی یا نہیں، ترے حق میں تھی مگر
کرتا تھا جو کبھی وہ وکالت تمام شُد
وہ روز روز مرنے کا قصہ ہوا تمام
وہ روز دِل کو چِیرتی وحشت تمام شُد
محسن میں کُنجِ زیست میں چُپ ہوں پڑا
مجنُوں سی وہ خصلت و حالت تمام شُد
تم کیا گئے، کہ شوقِ نظارا تمام شد
کل تیرے تشنگاں سے یہ کیا معجزہ ہوا
دریا پہ ہونٹ رکھے، تو دریا تمام شد
دنیا تو ایک برف کی سل سے سوا نہ تھی
پہنچی ذرا جو آنچ، تو دنیا تمام شد
عشاق پر یہ اب کے عجب وقت آپڑا
مجنوں کے دل سے حسرت لیلٰی تمام شد
شہرِ دل تباہ میں پہنچوں تو کچھ کھلے
کیا بچ گیا ہے راکھ میں، اور کیا تمام شد
ہم شہرِ جاں میں آخری نغمہ سنا چکے
سمجھو کہ اب ہمارا تماشا تمام شد
اک یاد یار ہی تو پس انداز ہے حسن
ورنہ وہ کار عشق تو کب کا تمام شد
حسن عباس رضا
وہ درد، وہ وفا، وہ محبت تمام شُد
لے! دل میں ترے قرب کی حسرت تمام شُد
یہ بعد میں کُھلے گا کہ کس کس کا خُون ہوا
ہر اِک بیاں ختم، عدالت تمام شُد
تُو اب تو دشمنی کے بھی قابل نہیں رہا
اُٹھتی تھی جو کبھی وہ عداوت تمام شُد
اب ربط اک نیا مجھے آوارگی سے ہے
پابندیء خیال کی عادت تمام شُد
جائز تھی یا نہیں، ترے حق میں تھی مگر
کرتا تھا جو کبھی وہ وکالت تمام شُد
وہ روز روز مرنے کا قصہ ہوا تمام
وہ روز دِل کو چِیرتی وحشت تمام شُد
محسن میں کُنجِ زیست میں چُپ ہوں پڑا
مجنُوں سی وہ خصلت و حالت تمام شُد
2 comments:
وہ دَردَ ، وہ وفَا ، وہ مُحبت تمَام شُد
لے دِل میں تِیرے قُرب کی حسرت تمَام شُد
یہ بعد میں کُھلے گا کہ کِس کس کاخوں ہُوا
ہر اک بیان ختم ، عدالت تمام شُد
تُو اب تَو دُشمنیِ کے بھی قَابِل نہیں رہا
اُٹھتی تھی جو کبھی وہ عَداوت تمَام شُد
اَب رَبط اِک نیا مُجھے آوارگی سے ھے
پابندیِ خیال کی عادت تمَام شُد
جَائِز تِھی یا نہیں تِھی، تِیرے حَق میں تِھی مَگر
کَرتا تھا جو کبھی، وہ وَکَالت تمَام شُد
وہ رُوز رُوز مَرنے کا قصّہ ہُوا تمَام
وہ رُوز دِل کو چِیرتی وَحشَت تمَام شُد
طاھر میں کُنجِ زیِست میں چُپ چاپ ھوں پڑا
مجنوں سی وہ خَجالت و حالت تمَامَ شُد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھائی یہ غزل خاکسار طاھر عدیم کی ھے پلیز شاعر کا نام درست فرما لیجئیے۔۔۔۔۔۔۔۔
طاھر عدیم شعری مجموعہ " تیرے نین کنول "
صفحہ نمبر 207 - 208
وہ دَردَ ، وہ وفَا ، وہ مُحبت تمَام شُد
لے دِل میں تِیرے قُرب کی حسرت تمَام شُد
یہ بعد میں کُھلے گا کہ کِس کس کاخوں ہُوا
ہر اک بیان ختم ، عدالت تمام شُد
تُو اب تَو دُشمنیِ کے بھی قَابِل نہیں رہا
اُٹھتی تھی جو کبھی وہ عَداوت تمَام شُد
اَب رَبط اِک نیا مُجھے آوارگی سے ھے
پابندیِ خیال کی عادت تمَام شُد
جَائِز تِھی یا نہیں تِھی، تِیرے حَق میں تِھی مَگر
کَرتا تھا جو کبھی، وہ وَکَالت تمَام شُد
وہ رُوز رُوز مَرنے کا قصّہ ہُوا تمَام
وہ رُوز دِل کو چِیرتی وَحشَت تمَام شُد
طاھر میں کُنجِ زیِست میں چُپ چاپ ھوں پڑا
مجنوں سی وہ خَجالت و حالت تمَامَ شُد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھائی یہ غزل خاکسار طاھر عدیم کی ھے پلیز شاعر کا نام درست فرما لیجئیے۔۔۔۔۔۔۔۔
طاھر عدیم شعری مجموعہ " تیرے نین کنول "
صفحہ نمبر 207 - 208
Post a Comment