Wednesday, August 26, 2015

Cycle of replacement.

"کون کہتا ہے کسی شخص سے ایک بار محبت ہونے کے بعد اس سے نفرت ہو سکتی ہے- - جو کہتا ہے وہ دنیا کا سب سے بڑا جھوٹا ہے-

اcycle of replacement میں محبت کی replacement نہیں ہوتی ہے- خود کو فریب دینے کے باوجود ہم یہ جانتے ہیں کہ ہمارے وجود میں خون کی طرح گردش کرنے والا نام کس کا ہوتا ہے ہم کبھی بھی اسے اپنے وجود سے نہیں نکال کر باہر نہیں پھینک سکتے -تہہ تہہ در اس کے اوپر دوسری محبتوں کا ڈھیر لگاتے جاتے ہیں-کہتے جاتے ہیں-اب ہم اس سے محبت کرتے ہیں-اب ہم اس سے محبت کرتے ہیں لیکن جو زیادہ دور ہوتا جاتا ہے وہ زیادہ قریب آتا جاتا ہے اور وہ ہمارے دل اور دما غ کے اس حصے تک جا پہنچتا ہے کہ کبھی اس کو وہا ں سے نکالنا پڑے تو پھر اس کے بعد نارمل زندگی گزارنے کے قابل نہیں رہتے-"

عمیرہ احمد
امربیل -ص555

Thursday, April 23, 2015

....

ہم بھول گئے ہر بات مگر تیرا پیار نہیں بھولے..

Saturday, January 3, 2015

ہوا تهمی تهی ضرور لیکن....

ہوا تھمی تھی ضرور لیکن
وہ شام جیسے سِسک رہی تھی
کہ زرد پتوں کو آندھیوں نے
عجیب قصہ سنا دیا تھا
کہ جس کو سن کر تمام پتے
سِسک رہے تھے، بِلک رہے تھے
جانے کس سانحے کے غم میں
شجر جڑوں سے اُکھڑ چکے تھے

بہت تلاشا تھا ہم نے تم کو
ہر ایک رستہ ہر ایک وادی
ہر ایک پربت، ہر ایک گھاٹی
مگر۔۔۔ کہیں سے خبر نہ آئی
تو کہہ کے یہ ہم نے دل کو ٹالا

ہوا تھمے گی تو دیکھ لیں گے
ہم اس کے رستوں کو ڈھونڈ لیں گے
مگر ہماری یہ خوش خیالی
جو ہم کو برباد کر گئی تھی

ہوا تھمی تھی ضرور لیکن
بڑی ہی مدت گزر چکی تھی
ہمارے بالوں کے جنگلوں میں
سفید چاندی اُتر چکی تھی

فلک پہ تارے نہیں رہے تھے
گلاب پیارے نہیں رہے تھے
وہ جن سے بستی تھی دل کی بستی
وہ لوگ سارے نہیں رہے تھے
مگر یہ المیہ تھا سب سے بدتر
کہ ہم تمھارے نہیں رہے تھے
کہ تم ہمارے نہیں رہے تھے

ہوا تھمی تھی ضرور لیکن
بڑی ہی مدت گزر چکی تھی...

بہت ممکن تها...

بہت ممکن تھا میری زیست
میرے پاؤں کے کانٹے نکل جاتے
بہت ممکن تھا میری راہ کے پتھر پِگھل جاتے
جو دیواریں میرے رستے میں حائل تھیں
میرے آگے سے ہٹ جاتیں

اگر تم آنکھ اٹھا کے دیکھ لیتے
کوہساروں کی طرف اک پل
چٹانیں اک تمھاری جُمبِشِ ابرو سے کٹ جاتیں

بہت ممکن تھا انگاروں بھری اس زندگانی میں
تمھارے پاؤں سے اجلے کنول کھلتے
رفاقت کی سنہری جھیل میں
دونوں کے عکسِ ذُوفِشاں ہِلتے

بس اک خوابِ مسلسل کی فزا اہتی
ہماری روح کب ہم سے خفا رہتی
یہ سب کچھ عین ممکن تھا
اگر تم مجھ کو مل جاتے...

ہم نے چاہا بھی مگر...

درد اتنا تھا کہ اُس رات دلِ وحشی نے
ہر رگِ جاں سے الجھنا چاہا
ہر بُنے منہ سے ٹپکنا چاہا
اور کہیں دور تیرے صحن میں گویا
پتّا پتّا میرے افسردہ لہو سے دُھل کر
حسنِ مہتاب سے آزردہ نظر آنے لگا

میرے ویرانہءِ تن میں گویا
سارے دکھتے ہوۓ ریشوں کی تنابیں کھل کر
سلسلہ وار پتہ دینے لگیں

رخصتِ فاصلہءِ شوق کی تیاری کا
اور جب یاد کی بجھتی شمعوں میں نظر آیا کہیں
ایک پل آخری تیری دلداری کا
درد اتنا تھا کہ اس سے بھی گزرنا چاہا
ہم نے چاہا بھی، مگر
دل نہ ٹھہرنا چاہا...

کسی آرام سے کوئی غرض کب تھی ؟؟

تمھارے ساتھ چلنا
اور چلتے ہی چلے جانا
کسی آرام سے کوئی غرض کب تھی ؟؟
طلب کا دائرہ
جو کہ محیط ارض و انجم تھا
سمٹ کر صرف "تم" ٹھہرا

تمہارا ساتھ سرشاری
تمہارا ہو کے جینا
اور مر جانا
خماری ہی خماری تھا
مگر یہ سب تو رستہ تھا
اور رستہ بھی کچھ ایسا
جسکی منزل ہی جدائی ہے

مجھے دیکھو
میں منزل پر کھڑا ہوں
گرد پلکوں پر
ادھورے خواب آنچل میں چھپاۓ
تمہاری یاد کو دل سے لگائے

مجھے دیکھو
تمہارے ساتھ کے خوابوں کی
کیا تعبیر پائی ہے
یہ عمروں کی مسافت کے محاصل ہیں
ادھورا میں ادھورے خواب ہیں
ابدی جدائی ہے
جو میری کُل کمائی ہے...