Saturday, January 3, 2015

ہم نے چاہا بھی مگر...

درد اتنا تھا کہ اُس رات دلِ وحشی نے
ہر رگِ جاں سے الجھنا چاہا
ہر بُنے منہ سے ٹپکنا چاہا
اور کہیں دور تیرے صحن میں گویا
پتّا پتّا میرے افسردہ لہو سے دُھل کر
حسنِ مہتاب سے آزردہ نظر آنے لگا

میرے ویرانہءِ تن میں گویا
سارے دکھتے ہوۓ ریشوں کی تنابیں کھل کر
سلسلہ وار پتہ دینے لگیں

رخصتِ فاصلہءِ شوق کی تیاری کا
اور جب یاد کی بجھتی شمعوں میں نظر آیا کہیں
ایک پل آخری تیری دلداری کا
درد اتنا تھا کہ اس سے بھی گزرنا چاہا
ہم نے چاہا بھی، مگر
دل نہ ٹھہرنا چاہا...

No comments: