Saturday, January 3, 2015

بہت ممکن تها...

بہت ممکن تھا میری زیست
میرے پاؤں کے کانٹے نکل جاتے
بہت ممکن تھا میری راہ کے پتھر پِگھل جاتے
جو دیواریں میرے رستے میں حائل تھیں
میرے آگے سے ہٹ جاتیں

اگر تم آنکھ اٹھا کے دیکھ لیتے
کوہساروں کی طرف اک پل
چٹانیں اک تمھاری جُمبِشِ ابرو سے کٹ جاتیں

بہت ممکن تھا انگاروں بھری اس زندگانی میں
تمھارے پاؤں سے اجلے کنول کھلتے
رفاقت کی سنہری جھیل میں
دونوں کے عکسِ ذُوفِشاں ہِلتے

بس اک خوابِ مسلسل کی فزا اہتی
ہماری روح کب ہم سے خفا رہتی
یہ سب کچھ عین ممکن تھا
اگر تم مجھ کو مل جاتے...

No comments: